World
ایران میں معاشی بحران اور پٹرول کی قلت، تہران پر بڑھتا دباؤ
ایران میں پٹرول کے حصول کے لیے کلومیٹر طویل قطاریں لگ گئی ہیں جو ملک پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو ظاہر کرتی ہیں۔ دریں اثنا، امریکی پابندیوں اور اقتصادی دھمکیوں کے بعد تہران نے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے مختلف شہروں میں پیٹرول کے حصول کے لیے کلومیٹر طویل قطاریں لگ گئی ہیں، جو ملک کو درپیش شدید معاشی بحران اور تہران پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی واضح علامت ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق ملک میں کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور اب ایک امریکی ڈالر کی قیمت دو ملین ریال تک پہنچ چکی ہے، جس نے عام شہریوں کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ اس معاشی ابتری نے ایران کے اندرونی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عوام کو بنیادی ضرورت کی اشیا کے حصول میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ کی جانب سے اقتصادی محاذ پر دباؤ مزید بڑھا دیا گیا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو اب ایک اقتصادی ڈی ڈے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد دیگر ممالک کو ایران کے ساتھ تمام تر مالیاتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی سطح پر بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں چین نے ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے پر امریکی پابندیوں کی کھلے عام مذمت کی ہے اور دو طرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
اس تمام کشیدہ صورتحال کے جواب میں ایرانی حکومت نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے پھیلائے جانے والے وسیع تر اقتصادی دباؤ اور نئی پابندیوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نکالنے کے لیے متبادل حکمت عملی پر کام جاری ہے تاکہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق کے مطابق عام آدمی کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔