LIVE
Loading Breaking News...

ناائن الیون حملے: خالد شیخ محمد کا ٹرائل 2028 میں ہوگا

News Image
گوانتانامو بے کے فوجی جج نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر شریک ملزمان کے ٹرائل کے لیے جون 2028 کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اس طویل المدتی قانونی کارروائی سے نائن الیون کے متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف کی طویل انتظار کے بعد ایک نئی تاریخ مل گئی ہے۔
امریکہ کے فوجی حکام نے گیارہ ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور اس کے دیگر ساتھیوں کے مقدمے کی باضابطہ سماعت کے لیے جون 2028 کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ گوانتانامو بے میں تعینات ایک فوجی جج کی جانب سے جاری کردہ اس شیڈول نے دنیا بھر کی توجہ اس تاریخی اور طویل ترین مقدمے کی طرف مبذول کرا دی ہے، جو طویل عرصے سے مختلف قانونی پیچیدگیوں اور تاخیر کا شکار چلا آ رہا ہے۔ خالد شیخ محمد اور ان کے چند دیگر ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے ان تباہ کن حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی جن میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملے جدید تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہیں جنہوں نے عالمی سیاست، سکیورٹی کے معیارات اور بین الاقوامی تعلقات کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس مقدمے کے آغاز میں تاخیر کی بڑی وجوہات میں قانونی چارہ جوئی کے دوران ملزمان کے حقوق، خفیہ معلومات کے استعمال اور تفتیشی حربوں کے قانونی جواز پر طویل بحثیں شامل ہیں۔ امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے اس طویل تاخیر پر وقتاً فوقتاً تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف متاثرہ خاندان برسوں سے اپنے پیاروں کے لیے مکمل انصاف اور احتساب کے منتظر ہیں، وہیں دوسری طرف دفاعی وکلاء کا کہنا ہے کہ مقدمے سے پہلے انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ جون 2028 کی نئی تاریخ کے اعلان کے بعد بھی اس مقدمے میں مزید قانونی موڑ آنے کا امکان ہے کیونکہ یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر ایک بار پھر نائن الیون کے المناک واقعات اور اس کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ یہ ٹرائل نہ صرف امریکی عدالتی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے بلکہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس کی تمام کارروائی پر دنیا بھر کی میڈیا اور قانونی ماہرین کی گہری نظر رہے گی۔