LIVE
Loading Breaking News...

گلیشیر تباہی سیلاب: 270 افراد جاں بحق اور 800 لاپتہ

News Image
گلیشیر کے بیٹھنے اور اچانک آنے والے سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں اموات ہو چکی ہیں۔ امدادی ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے مسلسل ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کے دوران ایک اور ہولناک سانحہ رونما ہوا ہے جہاں گلیشیر کے اچانک بیٹھنے یا گرنے سے آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس قدرتی آفت کی زد میں آ کر کم از کم 270 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 800 سے زائد افراد تاحال لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ اس غیر متوقع اور ہنگامی صورتحال نے مقامی آبادی کو شدید ترین بحران سے دوچار کر دیا ہے اور ہر طرف ملبے کے ڈھیر اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچہ نظر آرہا ہے۔ حکام اور امدادی اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کا کام انتہائی کٹھن حالات میں جاری ہے۔ سیلابی ریلے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ اس نے اپنے راستے میں آنے والے تمام مکانات، پلوں اور سڑکوں کو تہہ و بالا کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیرز کا اس طرح تیزی سے ٹوٹنا اور پگھلنا زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا نتیجہ ہے، جو آنے والے وقتوں میں دنیا بھر کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور ملک کی فوج سمیت دیگر ریسکیو ادارے زمین اور فضا دونوں ذرائع سے امدادی کارروائیاں چلا رہے ہیں۔ لاپتہ افراد کے ورثاء اپنے پیاروں کی تلاش میں شدید پریشانی کے عالم میں امدادی کیمپوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ طبی عملے کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے اور کسی بھی ممکنہ وبا یا بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ اس المیے کے بعد ماحولیاتی ماہرین اور عالمی رہنماؤں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر فوری طور پر گلوبل وارمنگ کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو اس طرح کے انسانی المیے روز کا معمول بن جائیں گے۔ عوام اور دنیا بھر کے ذمہ دار اداروں کو چاہیے کہ وہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ دریں اثنا، متاثرہ علاقے میں سوگ کا ماحول ہے اور متاثرین کی بحالی کے لیے طویل المدتی منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔