World
راتکو ملادیچ کا انتقال: بوسنیا کا جنگی مجرم دنیا سے چل बसा
بوسنیا کے سابق سرب جنگی مجرم راتکو ملادیچ 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ انہیں سابق یوگوسلاویہ کی جنگوں کے دوران نسل کشی اور جنگی جرائم پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
بوسنیا کے سابق سرب کمانڈر اور جنگی مجرم راتکو ملادیچ 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ انہیں نوے کی دہائی میں سابق یوگوسلاویہ کی جنگوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور سنگین جرائم کے پاداش میں بین الاقوامی عدالت کی طرف سے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کی موت کی خبر نے بلقان کے خطے میں ایک بار پھر پرانی یادوں اور تنازعات کی بحث کو تازہ کر دیا ہے۔
راتکو ملادیچ کو سنہ 2017 میں اقوام متحدہ کے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل برائے سابق یوگوسلاویہ نے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔ عدالت نے انہیں سربرینیکا میں آٹھ ہزار سے زائد مسلمان مردوں اور لڑکوں کے قتل عام سمیت کئی دیگر سنگین الزامات میں مجرم ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی، جسے بعد میں اپیل میں بھی برقرار رکھا گیا تھا۔
ملادیچ، جنہیں بلقان کا قصائی بھی کہا جاتا تھا، نے 1992 سے 1995 تک بوسنیا کی جنگ کے دوران سرب افواج کی قیادت کی تھی۔ اس جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر ہونے والی خون ریزی اور نسلی صفائی نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اور ملادیچ اس تمام کارروائی کے مرکزی کرداروں میں شامل تھے۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ کئی سال تک روپوش رہے، تاہم بالآخر 2011 میں انہیں سربیا سے گرفتار کر کے ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
ان کی موت کے بعد متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف انصاف کے تقاضے پورے ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف جنگ کے دوران کھوئے جانے والے پیاروں کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ راتکو ملادیچ کا شمار تاریخ کے ان نمایاں اور متنازع فوجی رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہیں جنگی جرائم کے پاداش میں کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔