World
برطانیہ میں سالمونلا کیسز میں اضافہ، انڈوں کی تحقیقات جاری
برطانیہ میں درآمد شدہ انڈوں سے جڑے سالمونلا کے انفیکشن کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد پانچ سو کے قریب پہنچ گئی ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
برطانیہ میں صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں سالمونلا وائرس سے بیمار ہونے والے افراد کی تعداد پانچ سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یہ انفیکشن مبینہ طور پر درآمد کیے جانے والے انڈوں سے جڑا ہوا ہے، جس کے بعد حکام نے خوراک کی حفاظت سے متعلق ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔ برطانوی اداروں کے مطابق متاثرہ افراد کے نئے کلسٹرز سامنے آ رہے ہیں جن کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔
محکمہ صحت اور فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام سپلائی چینز کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں جہاں سے یہ انڈے مارکیٹ میں سپلائی کیے گئے تھے۔ ابتدائی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ درآمدی انڈے اس وباء کا بنیادی سبب بنے ہیں، تاہم حتمی نتائج کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ اور پبلک ہیلتھ رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ انڈوں کے استعمال کے دوران حفظان صحت کے اصولوں کا خاص خیال رکھیں اور انہیں اچھی طرح پکا کر استعمال کریں۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ سالمونلا انفیکشن کے نتیجے میں پیٹ میں شدید درد، بخار، اور قے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جو کمزور قوت مدافعت والے افراد کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال پر قابو پانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہے ہیں اور مارکیٹ سے مشکوک مصنوعات کو ہٹانے کے عمل میں بھی تیزی لائی گئی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طور پر اپنے معالج سے رجوع کریں۔