LIVE
Loading Breaking News...

بلیک لائیولی قانونی فیس تنازعہ عدالت کا فیصلہ

News Image
معروف ہالی ووڈ اداکارہ بلیک لائیولی کو ہتک عزت کے مقدمے کے دفاع میں اٹھائے گئے قانونی اخراجات کے لیے عدالت نے چار لاکھ ڈالر دینے کا حکم دیا ہے۔ یاد رہے کہ اداکارہ نے اپنے قانونی اخراجات کی مد میں کل آٹھ ملین ڈالر کا دعویٰ کیا تھا جو جج نے مسترد کر دیا۔
ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ بلیک لائیولی کو ایک طویل قانونی جنگ کے دوران عدالت کی طرف سے بڑی پیش رفت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں جج نے ان کے قانونی اخراجات کے دعوے پر بڑا فیصلہ صادر کیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت نے بلیک لائیولی کو ان کی قانونی فیس کی مد میں چار لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ اداکارہ نے اس مقدمے کے دوران کل آٹھ ملین ڈالر کے اخراجات کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ سارا تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک ہتک عزت کے مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے اداکارہ کو بھاری بھرکم قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کرنا پڑیں اور انہیں عدالت کا دروازہ دیکھنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق بلیک لائیولی نے اس قانونی لڑائی میں اٹھنے والے اخراجات کی پوری وصولی کے لیے عدالت میں آٹھ ملین ڈالر کی باقاعدہ درخواست جمع کروائی تھی، تاکہ دفاعی اخراجات کا پورا ازالہ کیا جا سکے۔ تاہم، معزز جج نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا کہ مانگی گئی رقم بہت زیادہ ہے اور اصل قانونی خدمات کے تناسب سے یہ غیر معقول ہے۔ عدالت نے آٹھ ملین ڈالر کی بھاری بھرکم درخواست کو مسترد کرتے ہوئے صرف چار لاکھ ڈالر کی رقم منظور کی، جو کہ اداکارہ کی جانب سے پیش کردہ کل لاگت کا ایک بہت ہی مختصر حصہ ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اداکارہ کے لیے ایک جزوی فتح کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اگرچہ وہ اپنے تمام اخراجات واپس لینے میں ناکام رہیں، لیکن عدالت کی طرف سے کچھ نہ کچھ ریلیف ملنا بھی اہم ہے۔ اس قانونی جنگ نے ہالی ووڈ کے حلقوں میں کافی ہلچل مچا دی ہے اور مداح بھی اس سارے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد اس طویل قانونی معرکے کا یہ باب فی الحال بند ہو جائے گا، تاہم اس سے جڑے دیگر قانونی پہلوؤں پر ابھی مزید بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔