World
برطانیہ میں پناہ گزینوں کی تعداد میں نمایاں کمی، ہوم آفس کی رپورٹ جاری
برطانوی ہوم آفس کی جانب سے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ہوٹلوں میں مقیم پناہ گزینوں کی تعداد میں پچاس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قانونی مائیگریشن، پناہ کی درخواستوں اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آنے والوں کی تعداد میں بھی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ یعنی ہوم آفس کی جانب سے پناہ گزینوں اور تارکین وطن سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے گئے ہیں جن کے مطابق ملک بھر کے ہوٹلوں میں مقیم پناہ گزینوں کی تعداد میں نمایاں اور ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔ حکومتی رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے عرصے کے دوران ہوٹلوں میں پناہ گزینوں کی تعداد نصف یعنی آدھی رہ گئی ہے جو کہ تارکین وطن کے انتظام کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے مقامی کونسلوں پر پڑنے والے مالی بوجھ میں بھی کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔
صرف ہوٹلوں میں پناہ گزینوں کی تعداد ہی کم نہیں ہوئی بلکہ سرکاری اعداد و شمار سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افراد کی شرح، پناہ کی نئی درخواستوں اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے خطرناک سفر کر کے انگلش چینل عبور کرنے والوں کی تعداد میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے اور پالیسیوں میں اصلاحات لانے کے بعد ان شعبوں میں یہ مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں ہیں۔
ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ اعداد و شمار حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات اب عملی طور پر نتیجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں۔ تاہم، فلاحی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اعداد و شمار میں کمی کے باوجود پناہ گزینوں کے مسائل کے طویل المدتی اور منصفانہ حل تلاش کرنے کی ضرورت بدستور برقرار ہے تاکہ انسانی بنیادوں پر ان کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے اور ملک کا نظام بھی مؤثر انداز میں چل سکے۔