LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں نوجوانوں کی بے روزگاری اور عدم تعلیم کا بحران

News Image
برطانیہ میں تقریباً دس لاکھ نوجوان اس وقت تعلیم، ملازمت یا کسی قسم کی پیشہ ورانہ تربیت سے باہر ہیں۔ یہ تشویشناک اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت کی جانب سے ایک بڑے تعلیمی اور روزگار کے جائزے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی کسی بھی قسم کی باضابطہ تعلیمی سرگرمی، روزگار یا پیشہ ورانہ تربیت کا حصہ نہیں ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً دس لاکھ نوجوان 'نیٹ' یعنی نوکری، تعلیم یا تربیت سے محروم (Neet) ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت انتہائی تشویشناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے جب ملک میں ایک اہم سرکاری اور پالیسی سطح کے جائزے کا باضابطہ آغاز ہونے والا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار معاشرتی اور معاشی ترقی کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ہر آٹھ میں سے ایک نوجوان کا اس طرح تعلیمی یا معاشی دھارے سے کٹ جانا نہ صرف ان افراد کے ذاتی مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ مجموعی طور پر ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ان نوجوانوں کی بحالی اور انہیں ہنر مند بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ انہیں پیداواری معاشی سرگرمیوں میں شامل کیا جا سکے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے آنے والے دنوں میں اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا اور ممکنہ طور پر نئی پالیسیاں متعارف کروائی جائیں گی۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد نوجوانوں کے سامنے موجود رکاوٹوں کو دور کرنا اور انہیں روزگار کے بہتر مواقع یا معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ عوام اور ماہرین اس جائزے کے نتائج کے منتظر ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ حکومت اس دیرینہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اپناتی ہے۔