LIVE
Loading Breaking News...

نیپال تبت سیلاب گلیشیئر کے گرنے سے آیا، سائنسی رپورٹ

News Image
سائنسدانوں کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق نیپال اور تبت میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی اصل وجہ گلیشیئر کا منہدم ہونا تھی۔ اس واقعے نے ہمالیہ کے خطے میں برف کے تیزی سے پگھلنے کے سنگین خطرات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔
ماہرین اور سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے پیچھے ایک بڑا گلیشیئر کا منہدم ہونا تھا۔ یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا بھر میں بالخصوص ایشیا کے پہاڑی سلسلوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے اثرات کتنی تیزی سے سنگین صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیموں کے مطابق گلیشیئر کے پھسلنے یا ٹوٹنے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پانی اور ملبہ نشیبی علاقوں کی طرف آیا جس نے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کر دیا۔ ہمالیہ کا خطہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے انتہائی حساس مانا جاتا ہے، جہاں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث برفانی تودے تیزی سے غیر مستحکم ہو رہے ہیں۔ سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے اور عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام نہ کیا گیا، تو مستقبل میں ایسے تباہ کن سیلابوں کے خطرات میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں نقصان کا تخمینہ لگانے اور متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں، جبکہ عالمی برادری سے بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے امداد کی اپیل کی جا رہی ہے۔