World
روس کا برطانیہ کو سخت انتباہ، برطانوی فوجی اہداف نشانے پر آ سکتے ہیں
روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین نے برطانوی ساختہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کیا تو وہ برطانوی فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ماسکو نے اس اقدام کو مغربی ممالک کی جانب سے آگ سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
ماسکو: روس نے ایک بار پھر مغربی ممالک کو شدید نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یوکرین نے برطانوی ساختہ میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے روسی سرزمین پر حملے کیے تو اس کا جواب برطانوی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔ روسی وزارتِ خارجہ اور اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس تنازع میں براہِ راست ملوث ہوتا جا رہا ہے اور کیف کو ہتھیار فراہم کرکے وہ آگ سے کھیل رہا ہے۔ روسی حکام کے مطابق اس قسم کے اقدام سے کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے اور جنگ کا دائرہ کار وسیع ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سی آئی اے کے سربراہ نے مبینہ طور پر کریملن کو خبردار کیا ہے کہ وہ نیٹو کے رکن ممالک پر براہِ راست حملے کرنے سے گریز کرے۔ اس کے باوجود، برطانیہ کی جانب سے یوکرین کو عسکری امداد کی فراہمی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹارم شیڈو میزائلوں کی تیاری میں مدد دینے کے اعلانات نے ماسکو کو شدید اشتعال دلایا ہے۔ روسی حکومت کا مؤقف ہے کہ کیف حکومت کو مغربی ہتھیاروں کی اندھا دھند سپلائی امن کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس سے صرف خطے میں خون خرابہ طول پکڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی سلامتی کے لیے انتہائی تشویشناک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر اس بحران کو کم کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو جنگ کے اثرات یورپ سمیت پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔