Politics
عمران خان کی صحت اور سپریم کورٹ کا حکم: اپوزیشن کا حکومت پر سنگین الزام
اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کر دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سینیٹ میں بھی اس معاملے پر شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔
ملکی سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جب اپوزیشن جماعتوں نے موجودہ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ سنگین الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت اور اسپتال منتقلی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے جو کہ قانون کی حکمرانی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس تنازع کے بعد سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو چکا ہے اور دونوں اطراف سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر 16 ستمبر کو سماعت متوقع ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اس سے قبل بھی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے مبینہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر فوری سماعت کے لیے دوسری بار درخواست دائر کی ہے۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں یہ خبریں بھی زیر گردش ہیں کہ عمران خان کے لیے ریلیف کو بعض شرائط کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے جن میں کسی بھی قسم کی پریس کانفرنس یا سیاسی بیان بازی نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔
اس معاملے پر سینیٹ کے اجلاس کے دوران بھی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کے مابین شدید لفظی جنگ اور گرما گرمی دیکھی گئی۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے ایک دوسرے پر عدالتی فیصلوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے الزامات عائد کیے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹرز کا اصرار تھا کہ عمران خان کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جائے جبکہ حکومتی وزراء نے عدالت کو ہی فیصلہ کرنے کا اختیار دینے پر زور دیا اور اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ اس حساس معاملے پر بلاوجہ کی سیاست چمکا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ملک میں سیاسی مفاہمت کی فضا کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ عدلیہ اور حکومت کے درمیان اس محاذ آرائی نے عوامی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملے پر جو بھی احکامات جاری ہوں گے، وہ ملکی سیاست کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کیونکہ دونوں فریقین اس پر کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نظر نہیں آتے۔