World
دبئی اور ایران کی معیشت پر ٹرمپ کے بیانات کے اثرات
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق دبئی میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے اور وہاں امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف اعلان کردہ نام نہاد 'ڈی ڈے' کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے جہاں ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
دبئی کی مصروف شاہراہوں اور بازاروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہاں امریکہ کے سابق اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دیے جانے والے بیانات یا نام نہاد معاشی 'ڈی ڈے' کے کوئی بھی واضح اثرات یا خوف کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال نظر آتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ بین الاقوامی سطح پر سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے، تاہم خلیجی ممالک کے تجارتی مراکز اب بھی اپنی روح کے مطابق معمول کی زندگی گزار رہے ہیں اور روزمرہ کے امور میں کسی قسم کے بڑے تعطل کا سامنا نہیں ہے۔
دوسری جانب ایران کے اندر معاشی صورتحال انتہائی تشویشناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی معیشت کو شدید ترین دباؤ کا سامنا ہے اور تہران میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت دو ملین ریال تک پہنچ چکی ہے، جس نے عام شہریوں کی زندگی کو اجیرن کر رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاشی گراوٹ امریکی دباؤ اور سخت پابندیوں کا نتیجہ ہے، جس کے باعث ایرانی کرنسی کی قدر میں روز بروز کمی واقع ہو رہی ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ایرانی حکام نے اس صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مزید اقتصادی دباؤ بڑھایا گیا تو تہران کی طرف سے انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔
اس تنازع کے پس منظر میں چین نے امریکہ کی جانب سے ان ممالک پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ بیجنگ کا موقف ہے کہ یکطرفہ پابندیاں بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں اور اس طرح کے اقدامات سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔ چین اور ایران کے درمیان تجارتی اور سفارتی تعلقات طویل عرصے سے مضبوط چلے آ رہے ہیں، اور بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے تجارتی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اس تازہ اضافے نے پوری دنیا بالخصوص خطے کے ممالک کے لیے ایک نئے بحران کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اگر صورتحال کو سفارتی ذرائع سے حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف خلیجی خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اس سے متاثر ہوسکتی ہے۔ تمام فریقین اس وقت انتہائی محتاط حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں تاکہ کسی بھی بڑی جنگی یا معاشی تصادم سے بچا جا سکے، تاہم آنے والے دن اس خطے کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔