World
مکہ دفاعی معاہدہ: بنگلہ دیش کی جانب سے شمولیت کا امکان
بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر ملک کو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تو اس پر مثبت انداز میں غور کیا جائے گا۔ یہ پیشرفت خطے میں نئی دفاعی شراکت داری اور سلامتی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور اعلیٰ سفارتی حلقوں کی جانب سے حال ہی میں ایک اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر بنگلہ دیش کو باضابطہ طور پر مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے تو ڈھاکہ اس پر انتہائی مثبت انداز میں غور کرے گا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک اسلامی ممالک کے مابین باہمی سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ مبصرین اس بیان کو خطے میں ایک اہم تزویراتی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ جسے بعض حلقوں کی جانب سے اسلامی دنیا کی سلامتی کے تناظر میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، اس میں مختلف مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینے کے امور زیر غور لائے جاتے ہیں۔ اس طرح کے معاہدے خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، عسکری تربیت اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی جانب سے اس معاہدے میں شمولیت کا عندیہ ظاہر کرنا نہ صرف اس کی سفارتی ترجیحات میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ مسلم دنیا کے ساتھ اس کے گہرے ہوتے ہوئے تعلقات کی بھی غمازی کرتا ہے۔ دوسری جانب، دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اتحاد خطے کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں کے مابین دفاعی معاہدوں کے تناظر میں بنگلہ دیش کا یہ موقف جنوب ایشیائی خطے میں نئی سکیورٹی ڈائنامکس کو جنم دے سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا باضابطہ دعوت نامہ موصول ہونے کے بعد ڈھاکہ اس معاہدے میں کس حد تک اور کس نوعیت کا کردار ادا کرتا ہے، جو کہ علاقائی اور بین الاقوامی سیاست میں خصوصی اہمیت کا حامل ہوگا۔