World
ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان، کڑی شرائط عائد
ایران کے اعلیٰ سیکورٹی عہدیدار محسن رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تہران کی جانب سے واضح شرائط طے کی جا رہی ہیں۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کے فوجی جہازوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایران کے اعلیٰ سیکورٹی حکام نے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے اپنی شرائط کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اعلیٰ سیکورٹی عہدیدار محسن رضائی کا کہنا ہے کہ تہران حکومت اس اہم بحری گزرگاہ کو فعال کرنے کے لیے تمام ضروری اور عسکری پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ملکی مفادات کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔ ایران کا موقف ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد کو معمول پر لانے کے لیے اس راستے کو بحال کیا جانا ضروری ہے، تاہم اس کے لیے فریقین کو تہران کی شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا۔ دوسری جانب اس پیش رفت کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات سلجھنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران اور اومان کے درمیان اس معاملے پر ہونے والی بات چیت نے صورتحال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ تاہم تہران نے یہ بات بھی انتہائی واضح کر دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ملک کے عسکری اور فوجی جہازوں کو داخلے کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران کا ماننا ہے کہ اس آبی راستے کو غیر فوجی زون قرار دینا خطے کے امن اور سکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ بین الاقوامی برادری اور توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کی سب سے بڑی شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کا کھلا رہنا عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔