World
ایلن لٹل اور رٹکو ملادچ: بوسنیا کی جنگ کی ہولناک یادیں
بی بی سی کے خصوصی نامہ نگار ایلن لٹل نے بوسنیا کی جنگ کے ابتدائی مہینوں میں 'بوسنیا کے قصائی' کہلانے والے رٹکو ملادچ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ملادچ کی خطرناک اور انتہا پسندانہ سوچ کھل کر سامنے آئی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خصوصی نامہ نگار ایلن لٹل نے بوسنیا کی جنگ کے ابتدائی مہینوں کے دوران پیش آنے والے ایک اہم اور ہولناک واقعے کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح جنگ کے آغاز ہی میں ان کی ملاقات 'بوسنیا کے قصائی' کے نام سے بدنام جنرل رٹکو ملادچ سے ہوئی تھی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی تھی جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور نسلی تعصب کی آگ ہر طرف پھیل رہی تھی۔ ایلن لٹل کے مطابق، رٹکو ملادچ کا رویہ اور خیالات اس بات کا واضح ثبوت تھے کہ آنے والا وقت کتنا خونریز اور تباہ کن ثابت ہوگا۔ ملاقات کے دوران ملادچ کی شخصیت میں ایک خطرناک قسم کی جنونیت اور تعصب پایا جاتا تھا، جو جنگ کے دوران کیے جانے والے مظالم کی بنیادی وجہ بنی۔ لٹل نے یاد کیا کہ کس طرح ملادچ اپنے جنگی عزائم کے بارے میں انتہائی بے باک اور سخت مؤقف رکھتا تھا، اور اسے انسانی جانوں کی کوئی پروا نہیں تھی۔ بوسنیا کی جنگ بیسویں صدی کے اواخر کے سب سے بڑے انسانی المیوں میں سے ایک ہے، اور اس جنگ کے ابتدائی ایام میں ملادچ جیسے کرداروں کا عروج اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کس طرح نفرت کی سیاست نے خطے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ ایلن لٹل کی یہ یاداشتیں ہمیں اس دور کی یاد دلاتی ہیں جب لاکھوں بے گناہ افراد کو نسلی تطہیر کا نشانہ بنایا گیا اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد نے انسانیت کو شرمسار کیا۔ تاریخ کے اس سیاہ باب کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انتہا پسندانہ نظریات کس طرح پورے خطے کو تباہی کی بھٹی میں جھونک سکتے ہیں، اور اس جنگ کے اثرات آج بھی متاثرہ خاندانوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔