World
آکسفورڈ شائر غیر قانونی کچرے کی صفائی، ٹیکس دہندگان کو 6 ملین پاؤنڈ کا خرچ
برطانیہ کے علاقے آکسفورڈ شائر میں ایک بہت بڑے غیر قانونی کچرے کے ڈھیر کو صاف کرنے پر چھ ملین پاؤنڈ کے اخراجات آئے ہیں۔ یہ بھاری بھرکم رقم بالآخر عام ٹیکس دہندگان کی جیب سے ادا کی گئی ہے۔
برطانیہ کے علاقے آکسفورڈ شائر میں ماحولیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائے گئے کچرے کے ایک غیر قانونی اور بڑے سپر سائیٹ کو صاف کرنے کے اخراجات نے سب کو چونکا دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس خطرناک اور وسیع کچرے کے ڈھیر کو ہٹانے اور علاقے کو صاف کرنے پر مجموعی طور پر چھ ملین پاؤنڈ کی خطیر رقم خرچ ہوئی ہے۔ اس صفائی مہم کا تمام مالی بوجھ بالآخر عام شہریوں اور ٹیکس دہندگان کو اٹھانا پڑا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین اور مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے غیر قانونی ڈپو نہ صرف ماحول کے لیے شدید خطرہ بنتے ہیں بلکہ ان کو ٹھکانے لگانے کے لیے سرکاری خزانے اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا زیاں ہوتا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ مقامی انتظامیہ اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ اس غیر قانونی کچرے کے ڈھیر کے پیچھے کون لوگ ملوث تھے اور اس قدر بڑے پیمانے پر یہ ڈپو کیسے قائم ہوا۔ حکام کا عزم ہے کہ ذمہ داران کا کڑا محاسبہ کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ماحولیاتی جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو اس طرح کے غیر ضروری اور نقصان دہ امور پر ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔