LIVE
Loading Breaking News...

ڈیٹا سینٹرز پر پابندی کا مطالبہ، توانائی اور پانی کا بحران

News Image
برطانوی سیاستدان زیک پولانسکی نے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے پانی اور توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وسائل کے تحفظ کے لیے نئے ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر عارضی پابندی عائد کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
برطانیہ میں گرینز سے وابستہ سیاستدان زیک پولانسکی نے ملک بھر میں نئے ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر فوری اور عارضی پابندی عائد کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کو چلانے کے لیے جتنے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت پڑ رہی ہے، وہ ہمارے ماحول اور قدرتی وسائل کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ان مراکز کو چلانے کے لیے بجلی اور ٹھنڈک کے نظام کے لیے پانی کی اتنی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے کہ مقامی یوٹیلیٹی سسٹمز پر ناقابل برداشت بوجھ پڑ رہا ہے۔ زیک پولانسکی کا مؤقف ہے کہ موجودہ ضابطہ کار اور قوانین اس تیز رفتار ترقی کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ جب تک حکومت اور متعلقہ ادارے توانائی کے استعمال اور پانی کی کھپت کو محدود کرنے کے لیے سخت ترین ضابطے اور ایس او پیز تیار نہیں کرتے، اس وقت تک کسی بھی نئے ڈیٹا سینٹر کو لائسنس یا اجازت نامہ جاری نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، اگر اس معاملے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آنے والے دنوں میں عام شہریوں کے لیے بجلی اور پانی کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے توانائی کا ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات نے بھی اس مطالبے کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں دنیا بھر کے ممالک اور کمپنیاں اپنے کاربن کے اخراج اور قدرتی وسائل کے خاتمے کو نظر انداز کر رہی ہیں۔ ڈیٹا سینٹرز کے لیے بڑے پیمانے پر کولنگ سسٹمز چلانے سے نہ صرف پانی ضائع ہوتا ہے بلکہ یہ پاور گرڈز پر بھی بہت زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اے آئی کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور بڑی ٹیک کمپنیاں زیادہ سے زیادہ ڈیٹا سینٹرز بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانوی حکومت یا دیگر ممالک اس بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کے پیشِ نظر کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں اور کیا وہ ان مراکز کے لیے واقعی کوئی سخت قوانین بنانے پر رضامند ہوتے ہیں یا نہیں۔