Technology
ٹیسلا گاڑیوں کی تحقیقات: سسپنشن کے مسائل پر امریکی حکام کا اقدام
امریکی ریگولیٹرز نے سسپنشن کے ممکنہ نقصانات اور ناکامی کے خدشات کے پیش نظر ٹیسلا کی تقریباً 12 لاکھ گاڑیوں کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام سے برقی گاڑیوں بنانے والی معروف کمپنی کو ایک بار پھر حفاظتی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی آٹوموبائل سیفٹی ریگولیٹرز نے ٹیسلا کی تقریباً 12 لاکھ گاڑیوں کی سسپنشن کی خرابی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ قدم صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات اور گاڑیوں کے کنٹرول سسٹمز میں ممکنہ نقائص کی نشاندہی کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ سسپنشن کی خرابی کے باعث ڈرائیورز کو گاڑی پر قابو پانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے سڑک پر حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) کے دفتر برائے نقائص کی تحقیقات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ جانچ پڑتال مختلف ماڈلز کے ٹیسلا یونٹس پر محیط ہوگی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب متعدد مالکان نے گاڑی چلاتے وقت سسپنشن کے پرزے ٹوٹنے یا غیر معمولی آوازیں آنے کی شکایات درج کروائیں۔ حکام ان شکایات کی گہرائی سے جانچ کر رہے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا یہ مسئلہ کسی ڈیزائن کے عیب کی وجہ سے ہے یا مینوفیکچرنگ کے عمل میں کسی خامی کا نتیجہ ہے۔
ٹیسلا کے لیے یہ تحقیقات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب کمپنی پہلے ہی دنیا بھر میں اپنی خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی اور حفاظتی معیارات کی وجہ سے سخت جانچ کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اگرچہ کمپنی کی جانب سے تحال اس حوالے سے کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ماضی میں بھی ٹیسلا کو اپنے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کے مسائل کی وجہ سے بڑی تعداد میں گاڑیاں واپس منگوانی پڑی تھیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر تحقیقات میں سسپنشن کے نقصانات ثابت ہوتے ہیں تو ٹیسلا کو بڑی تعداد میں گاڑیوں کو ری کال کرنا پڑ سکتا ہے جس سے کمپنی کی ساکھ اور مالیاتی امور پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔