World
گھانا میں بچوں کی ویکسینیشن: امریکی امداد میں کمی سے خطرات
امریکی امداد میں کٹوتیوں کے باعث افریقی ملک گھانا کو صحت کے شعبے میں اٹھہتر ملین ڈالر سے زائد کے مالیاتی خسارے کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بچوں کی ویکسینیشن اور حفاظتی ٹیکہ جات کے حوالے سے حاصل کی گئی کامیابیوں کے ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
افریقی ملک گھانا کو صحت کے شعبے میں تقریباً اٹھہتر اعشاریہ دو ملین ڈالر کے فنڈنگ کے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی اور بالخصوص امریکی امداد میں کی جانے والی کٹوتیاں ہیں۔ اس اچانک مالیاتی کمی کی وجہ سے گھانا کی حکومت کی جانب سے بچوں کی صحت اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے چلائی جانے والی حفاظتی ٹیکہ جات کی مہم کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی فنڈنگ پر انحصار کرنے والے اس شعبے میں اس بحران کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ماضی میں بچوں کی صحت کے حوالے سے جو اہم کامیابیاں حاصل کی گئی تھیں، وہ اب ماند پڑ سکتی ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر بروقت فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو پولیو، خسرہ اور دیگر خطرناک امراض کے خلاف ویکسینیشن کا عمل سست پڑ سکتا ہے، جس سے لاکھوں کم سن بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ گھانا کے محکمہ صحت کے حکام اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر متبادل ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ بچوں کی ویکسینیشن کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔ دوسری جانب، عالمی امدادی تنظیموں نے بھی خبردار کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں صحت کے بجٹ میں کٹوتیوں کے انسانی زندگیوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی برادری کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کروائی ہے کہ صحت عامہ کے پروگراموں کو پائیدار بنانے کے لیے مقامی وسائل پر انحصار بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ اس قسم کے بیرونی جھٹکوں سے بچا جا سکے۔