Pakistan
پمز اسپتال آتشزدگی: چودہ نو مولود بچوں کی ہلاکت اور تحقیقات
اسلام آباد کے پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں چودہ نو مولود بچے جاں بحق ہو گئے، جس پر ملک بھر میں شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی نے اس اندوہناک واقعے کی خصوصی تحقیقات کی منظوری دیدی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے ایک انتہائی دلخراش اور ہولناک واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ اسپتال کے نرسری وارڈ میں اچانک لگنے والی آگ کے نتیجے میں چودہ معصوم نو مولود بچے اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ اس حادثے کے بعد اسپتال کے باہر موجود لواحقین میں شدید غم، صدمہ اور انتہائی غصہ پایا جا رہا ہے کیونکہ بچوں کے والدین اپنے جگر گوشوں کے بچھڑنے پر پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ نے نرسری وارڈ کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس المناک واقعے کے بعد ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور غفلت کے عناصر پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ بروقت امدادی کارروائی نہ ہونے اور مناسب حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بچے اس ہولناک آگ کا شکار بنے۔ اس افسوسناک سانحے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قومی اسمبلی نے پمز اسپتال کے اس واقعے کی شفاف اور خصوصی تحقیقات کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ متعلقہ حکام اور سیاسی شخصیات کا کہنا ہے کہ اس غفلت کے ذمہ دار کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا اور قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ وزارت کی جانب سے بھی واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آگ لگنے کی اصل وجوہات کیا تھیں اور اس میں کون کون غفلت کا مرتکب پایا گیا۔