World
امریکی طلبہ ویزا اور انٹرنشپ قوانین میں سختی، ٹرمپ انتظامیہ کا اقدام
امریکی حکومت نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے انٹرنشپ کے قوانین کو مزید سخت بنانا شروع کر دیا ہے جس سے دنیا بھر سے امریکہ جانے والے طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیز نے فیڈرل نوٹس کے بعد اپنے ورک پروگرامز اور سی پی ٹی کے عمل کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے سٹوڈنٹ ویزا کے قوانین کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت بیرون ملک سے آنے والے طلبہ کے لیے انٹرنشپ کے مواقع کو محدود کرنے کے لیے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس پالیسی تبدیلی کا مقصد ملک میں غیر ملکی طلبہ کے کام کرنے کے اختیارات پر کڑی نظر رکھنا اور ان کے دائرہ کار کو محدود کرنا ہے۔ اس سلسلے میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی جانب سے جاری کردہ میمو کے بعد تعلیمی اداروں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ملک بھر کی ممتاز یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں نے اس وفاقی ہدایت کے پیش نظر اپنے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ورک پروگرامز اور کرہ پریکٹیکل ٹریننگ (سی پی ٹی) کے عمل کا از سر نو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی ارون (یو سی آئی)، نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی (یو این سی) اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانتا باربرا سمیت کئی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ وہ ان نئے وفاقی رہنما خطوط پر عملدرآمد کے لیے اپنے اندرونی طریقہ کار کو اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔ ان نئی پابندیوں سے ہزاروں ایسے غیر ملکی طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں جو اپنی تعلیم کے دوران عملی تجربہ حاصل کرنے کے لیے انٹرنشپ پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین تعلیم اور طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان سخت قوانین کی وجہ سے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند بین الاقوامی طلبہ کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا، جبکہ یونیورسٹیز کو بھی انتظامی لحاظ سے شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فیڈرل ایجنسیز اور تعلیمی اداروں کے درمیان ان معاملات پر مشاورت اور جائزہ لینے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ نئے قواعد و ضوابط کے اثرات کا مکمل اندازہ لگایا جا سکے۔