Pakistan
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 11 دہشت گرد ہلاک
سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ صدر مملکت نے کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کرتے ہوئے 11 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ دونوں صوبوں میں ہونے والی ان کارروائیوں سے عسکریت پسندوں کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے اور فورسز نے ملک بھر میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کارروائیاں مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں اور دیگر اہم علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں انتہائی مؤثر ثابت ہوئیں، جہاں دہشت گردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد کئی اہم عسکریت پسند مارے گئے۔ دوسری جانب بلوچستان میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تخریب کاری کے بڑے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے متعدد کارروائیاں کیں۔ ان تمام کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا ہے جو معصوم شہریوں اور سرکاری تنصیبات کے خلاف استعمال کیا جانا تھا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے ہمیشہ ملک و قوم کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے ملک بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں نمایاں تیزی لائی گئی ہے، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بروقت کارروائیوں کی وجہ سے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔