LIVE
Loading Breaking News...

ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

News Image
ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں جن کی وفات کے بعد ملک بھر میں سوگ کا سماں ہے۔ وہ اپنی اصلاح پسند سوچ، سادگی اور فیملی بحرانوں کے باوجود عوام میں انتہائی مقبول بادشاہ کے طور پر جانے جاتے تھے۔
ناروے کے فرماں روا اور عوام میں انتہائی ہر دلعزیز بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ ان کے انتقال پر پورا ملک گہرے صدمے اور سوگ کی حالت میں ڈوبا ہوا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی عالمی رہنماؤں کی طرف سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ شاہ ہیرالڈ پنجم کو ان کے اصلاح پسندانہ نظریات اور جدید نارویجن بادشاہت کی تشکیل کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے اپنی طویل دور حکومت میں کئی چیلنجز کا سامنا کیا اور فیملی کے اندرونی بحرانوں کے باوجود ہمیشہ عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام برقرار رکھا۔ وہ اپنی عاجزی اور کھیلوں بالخصوص سیلنگ سے محبت کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں مشہور تھے۔ ان کی وفات کے ساتھ ہی ناروے کی تاریخ کے ایک اہم باب کا اختتام ہو گیا ہے جو کہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تھا۔ شاہ ہیرالڈ پنجم کی رحلت کے بعد ناروے میں شاہی پروٹوکول کے مطابق سوگ کے دنوں کا اعلان کیا گیا ہے اور ملک کی اہم عمارات پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ ذرائع کے مطابق ان کی آخری رسومات اور تدفین کے انتظامات کے حوالے سے شاہی محل کی طرف سے جلد ہی باضابطہ تفصیلات جاری کی جائیں گی جن میں دنیا بھر سے اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ دوسری جانب، ناروے کے نئے فرماں روا کے طور پر ولی عہد ہاکون اب باضابطہ طور پر اپنی شاہی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ولی عہد ہاکون، جو کہ اس سے قبل 'مایوسی کے شکار شہزادے' کے طور پر بھی میڈیا میں موضوع بحث رہے ہیں، اب اس نئی اور بڑی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے تیار ہیں۔ عوام اور سیاسی حلقوں کی طرف سے نئے بادشاہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ملک کو ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رکھیں گے۔