World
ایرانی اسپیکر کا امریکی وزیر خزانہ کو منہ توڑ جواب
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ کے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ خطے میں خود مختار اور آزادانہ علاقائی ڈھانچہ ہی سکیورٹی کی بنیادی ضمانت ہے۔
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ کے حالیہ بیان پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیکر قالیباف نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ امریکہ کو خطے کے امور سے متعلق ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادانہ اور خودمختار علاقائی نظام ہی مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور سکیورٹی کی اصل کلید ہے۔
ادھر سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ جنگ کے بعد کے مشرق وسطیٰ میں ایران کا کیا مقام ہونا چاہیے اور تہران کو اپنی پالیسیوں میں کس قسم کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ محمد باقر قالیباف کو حالیہ دنوں میں بعض سخت گیر عناصر کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے جو ان پر نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس اندرونی سیاسی رسہ کشی کے باوجود، پارلیمانی اسپیکر نے بیرونی طاقتوں کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ محمد باقر قالیباف نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اگر امریکہ کوئی نیا سمجھوتہ یا مفاہمت چاہتا ہے تو اسے ایران کی طے شدہ شرائط کو تسلیم کرنا ہوگا۔ تہران انتظامیہ کا موقف ہے کہ خطے میں کشیدگی کی بنیادی وجہ بیرونی مداخلت ہے اور جب تک غیر ملکی طاقتیں یہاں سے اپنا اثر و رسوخ ختم نہیں سمیٹیں گی، امن کا قیام ناممکن رہے گا۔