LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی جنگ کے ثالثوں کی سرگرمیاں

News Image
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ثالث ممالک کے نمائندے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ تمام علاقائی جنگوں کے خاتمے کے بغیر اس اہم تجارتی راستے کی مکمل بحالی ممکن نہیں ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور جنگی صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی ثالثوں کی توجہ اب اہم ترین سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر مرکوز ہو گئی ہے۔ قطر، عمان اور پاکستان کے اعلیٰ سفارتی حکام نے حالیہ دنوں میں تہران کے دورے کیے ہیں تاکہ تنازع کے حل اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے نئی راہیں تلاش کی جا سکیں۔ ان کوششوں کا مقصد فریقین کے درمیان بات چیت کا آغاز کرنا اور عالمی تجارت کی اس اہم شریان کو بحال کرنا ہے جو خطے میں جاری محاذ آرائی سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگرچہ سفارت کاری کی طرف واپسی ناممکن نہیں ہے، تاہم آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے خطے کی تمام جنگوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے قطری وزیراعظم سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ دباؤ کی پالیسی خطے میں کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔ تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے والوں کو زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہوگا۔ دوسری جانب، قطری وزیراعظم اور دیگر علاقائی رہنما خطے کے تنازع کو سیاسی طریقے سے سلجھانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل اور توانائی کی سپلائی کا ایک انتہائی حساس اور اہم ترین راستہ ہے، اور اس کی بندش یا رکاوٹ کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور اقتصادی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے تاکہ اس اہم سمندری گزرگاہ کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر مزید رابطوں کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ ثالث ممالک خطے میں کسی بڑی تباہی کو روکنے اور تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اگرچہ فریقین کے درمیان پوزیشنز میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے، لیکن سفارتی ذرائع کا ماننا ہے کہ مسلسل مذاکرات اور خطے کے ممالک کی ثالثی سے ہی اس بحران کا کوئی قابل قبول حل نکالا جا سکتا ہے جس سے آبنائے ہرمز کی بحالی بھی ممکن ہو سکے۔