LIVE
Loading Breaking News...

این ایچ ایس میں اے ڈی ایچ ڈی اور آٹزم کی دیکھ بھال کا بحران

News Image
برطانیہ میں این ایچ ایس کے اعلیٰ حکام نے اے ڈی ایچ ڈی اور آٹزم کی دیکھ بھال کے نظام میں شدید بحران اور افراتفری کا انتباہ جاری کیا ہے۔ نجی اداروں کی جانب سے بڑھتی ہوئی مانگ اور بے ضابطگیوں کے باعث اخراجات تیزی سے قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔
برطانیہ کے قومی صحت کے ادارے این ایچ ایس کے اعلیٰ منتظمین اور سربراہان نے خبردار کیا ہے کہ اے ڈی ایچ ڈی یعنی توجہ کی کمی اور ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر اور آٹزم کے امراض کی دیکھ بھال کا نظام شدید افراتفری اور بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس بحران کی سب سے بڑی وجہ غیر منظم نجی اداروں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے جو اس شعبے میں موجود شدید مانگ سے غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ متعلقہ اخراجات اب مکمل طور پر قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں جس سے سرکاری وسائل پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہزاروں مریض علاج اور تشخیص کے لیے طویل انتظار کی فہرستوں میں شامل ہیں جبکہ سرکاری نظام اس بڑھتے ہوئے بوجھ کو اٹھانے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مریض اور ان کے اہل خانہ مجبور ہو کر نجی کلینکس اور providers کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جہاں فیسوں کی کوئی مناسب حد بندی یا سرکاری ریگولیشن موجود نہیں ہے۔ یہ نجی ادارے مریضوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر بھاری بھرکم فیسیں وصول کر رہے ہیں جس کی وجہ سے صحت کے قومی بجٹ پر مالی بوجھ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے اور عام شہریوں کے لیے علاج معالجہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ این ایچ ایس کے مینیجرز نے حکومت اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس شعبے میں فوری طور پر اصلاحات نافذ کی جائیں اور نجی اداروں کی کارکردگی کو سخت ضابطوں کے تحت لایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور نہ صرف مریضوں کو ملنے والی طبی خدمات کا معیار گرے گا بلکہ مالیاتی ڈھانچہ بھی منہدم ہونے کا خطرہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مسئلے کا پائیدار حل صرف اس صورت میں ممکن ہے جب سرکاری سطح پر سہولیات کو بہتر بنایا جائے اور نجی شعبے کی اجارہ داری کو ختم کیا جائے۔