World
اگست کا اسٹرجیئن مون اور چاند گرہن، دلکش تصاویر سامنے آگئیں
اگست کے مکمل چاند یعنی اسٹرجیئن مون کے موقع پر جزوی چاند گرہن کا ایک شاندار فلکیاتی نظارہ دیکھنے میں آیا۔ دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات اور شوقیہ عکاسوں نے اس دلکش منظر کی خوبصورت تصاویر اپنے کیمروں میں محفوظ کیں۔
اگست کا مہینہ فلکیاتی شوقین افراد کے لیے انتہائی شاندار اور یادگار ثابت ہوا ہے کیونکہ اس دوران آسمان پر 'اسٹرجیئن مون' (Sturgeon Moon) کے نام سے معروف سال کا ایک خوبصورت ترین مکمل چاند نمودار ہوا۔ اس فلکیاتی واقعے کو اس وقت مزید چار چاند لگ گئے جب اس کے ساتھ ہی ایک جزوی چاند گرہن کا اتفاق بھی ہو گیا، جس سے آسمانی نظارے کی خوبصورتی اور دلکشی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق اس طرح کے قدرتی مناظر بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں جب دو اہم فلکیاتی مظاہر بیک وقت رونما ہوں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں اس نایاب اور دلکش منظر کو دیکھنے کے لیے لوگ بڑی تعداد میں کھلے آسمان کے نیچے جمع ہوئے اور اس حسین امتزاج سے لطف اندوز ہوئے۔ پیشہ ور عکاسوں اور شوقیہ تارہ شناسوں نے اس موقع پر جدید ترین کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے چاند کی انتہائی شاندار اور صاف تصاویر اتاریں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔ اسٹرجیئن مون کا یہ نام تاریخی پس منظر کا حامل ہے، جو روایتی طور پر اگست کے مہینے میں بڑی مچھلیوں کے شکار کے سیزن سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس بار چاند کی ساخت، اس کی چمک اور اس کے گرد موجود ہلکی سی تاریکی نے اس فلکیاتی نظارے کو ایک سحر انگیز روپ دے دیا تھا۔ سائنسدانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے پرکشش فلکیاتی واقعات نہ صرف عام لوگوں میں سائنس اور کائنات کے بارے میں تجسس بڑھاتے ہیں بلکہ ہمیں کائنات کی وسعتوں اور اس کے پراسرار نظام پر غور کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اگست کے اس اسٹرجیئن مون کی یادگار تصاویر طویل عرصے تک فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے ذہنوں میں تازہ رہیں گی اور آنے والے دنوں میں بھی اس پر مزید سائنسی بحث متوقع ہے۔