World
چین کی وارننگ: نیپال تبت سرحد پر جھیل ٹوٹنے اور سیلاب کا خطرہ
نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب حالیہ لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی جھیل کے ٹوٹنے سے ایک اور تباہ کن سیلاب کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ چینی حکام نے فوری طور پر الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حفاظتی اقدامات سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔
چینی حکام نے حال ہی میں نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب پیش آنے والے لینڈ سلائیڈنگ کے واقعے کے بعد ایک سنگین انتباہ جاری کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں پہاڑی علاقے میں ایک بڑی جھیل بن گئی تھی، جس کے آنے والے دنوں میں ٹوٹنے کا انتہائی زیادہ خطرہ موجود ہے۔ اگر یہ جھیل ٹوٹ جاتی ہے تو اس سے نشیبی علاقوں میں ایک بار پھر شدید نوعیت کا سیلاب آ سکتا ہے، جو مقامی آبادی اور املاک کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب خطے میں شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث دریا کا قدرتی بہاؤ رک گیا اور پانی جمع ہو کر ایک مصنوعی جھیل کی شکل اختیار کر گیا۔ ماہرین اور مقامی انتظامیہ اس جھیل کے پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ چینی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر موسمی حالات خراب ہوتے ہیں یا بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے جھیل کے بند ٹوٹنے کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔
حکومتی اداروں نے اس خطرے کے پیش نظر سرحدی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور متاثرہ حصوں میں رہنے والے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیمیں کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور امدادی سامان بھی پہنچایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی برادری اور علاقائی ماہرین بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں اور جھیلوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔