LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں ای بائیک بیٹری کی آگ سے اٹھارہ ہلاکتیں

News Image
برطانیہ میں ای بائیک کے استعمال میں اضافے کے ساتھ ہی بیٹریوں میں آگ لگنے کے جان لیوا واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حادثات کے نتیجے میں زہریلا دھواں سانس کے ذریعے اندر جانے اور گھروں میں پھنس جانے سے اٹھارہ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
برطانیہ میں الیکٹرک بائیکس یا ای بائیکس کے بڑھتے ہوئے رجحان نے جہاں ماحول دوست سواری کو فروغ دیا ہے، وہیں اس کے ساتھ جڑے ہوئے کچھ انتہائی خطرناک اور پوشیدہ خطرات بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں ای بائیک کی بیٹریوں میں آگ لگنے کے افسوسناک واقعات میں اٹھارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس نے حکام اور حفاظتی اداروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان حادثات میں زیادہ تر اموات اس وقت ہوئیں جب متاثرہ افراد یا تو آگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید زہریلے دھوئیں کی لپیٹ میں آ کر دم گھٹنے سے جان کی بازی ہار گئے یا پھر اپنے ہی گھروں میں اچانک لگنے والی آگ کے باعث اندر ہی پھنس کر رہ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر معیاری بیٹریوں کا استعمال، سستے چارجرز اور بیٹریوں کو ضرورت سے زیادہ دیر تک چارج پر لگانا اس قسم کے جان لیوا حادثات کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ ای بائیکس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ شہری اسے روزمرہ کی آمد و رفت کے لیے ایک آسان اور سستا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تاہم، حفاظتی معیارات پر پورا نہ اترنے والے آلات اور بیٹریوں کی فروخت نے انسانی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ آتشزدگی کے ان واقعات نے نہ صرف صارفین بلکہ مینوفیکچررز کو بھی ایک واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر فوری طور پر سخت حفاظتی اقدامات اور معیاری جانچ کا نظام نافذ نہ کیا گیا تو یہ پوشیدہ خطرات مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتے ہیں۔ برطانوی حکام اور فائر بریگیڈ کے محکمے اب عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ای بائیک خریدتے وقت اس کے پرزہ جات بالخصوص بیٹری کے معیار پر خصوصی توجہ دیں اور چارجنگ کے دوران احتیاطی تدابیر کو لازمی طور پر ملحوظ خاطر رکھیں تاکہ اس طرح کے المناک واقعات کی تکرار کو روکا جا سکے۔