Technology
میٹا کی نئی حفاظتی پابندیاں، والدین اور نوجوانوں کی رائے
بچوں کی حفاظت سے متعلق ایک بڑے مقدمے کے تصفیے کے بعد میٹا نے اپنی ایپس پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے والدین اور نو عمر صارفین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیا ہے۔
بچوں کی حفاظت سے متعلق اٹھارہ ارب ڈالر کے ایک تصفیے کے سلسلے میں معروف ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنی مختلف سوشل میڈیا ایپس پر نوجوان صارفین کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان نئی پابندیوں کا مقصد کم عمر بچوں اور نو عمر افراد کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنا اور ان کے اسکرین ٹائم کو محدود کرنا ہے۔ کمپنی کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب دنیا بھر میں بچوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے حوالے سے تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں میڈیا اداروں نے والدین اور نو عمر صارفین سے رابطہ کر کے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ہے کہ آیا یہ نئے اقدامات اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔
نئے قوانین اور پابندیوں کے اعلان کے بعد جب والدین اور نو عمر افراد سے بات کی گئی تو ان کا ردعمل ملا جلا لیکن زیادہ تر تنقیدی رہا۔ بہت سے والدین کا کہنا تھا کہ میٹا کی جانب سے اٹھائے گئے یہ اقدامات بظاہر اچھے لگتے ہیں لیکن زمینی حقائق کے مطابق یہ مسائل کی جڑ تک نہیں پہنچتے۔ ان کا ماننا ہے کہ کمپنیاں صرف قانونی دباؤ سے بچنے کے لیے علامتی اقدامات کر رہی ہیں جبکہ ڈیجیٹل لت اور ذہنی صحت کے مسائل بدستور برقرار ہیں۔ دوسری طرف نو عمر صارفین کا بھی یہی خیال تھا کہ یہ پابندیاں اتنی سخت نہیں ہیں کہ وہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے روک سکیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف ایپس کی سطح پر پابندیاں لگا دینے سے بچوں کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے لیے والدین اور اساتذہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے آگاہ کیا جا سکے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر یہ دباؤ بھی بڑھ رہا ہے کہ وہ مزید شفاف اور سخت ضابطے نافذ کریں تاکہ کم عمر صارفین کے حقوق اور حفاظت کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا میٹا کی یہ نئی پالیسیاں صارفین کے رویے میں کوئی قابل ذکر تبدیلی لا پاتی ہیں یا نہیں۔