LIVE
Loading Breaking News...

یوگنڈا کے کم عمر ترین بادشاہ کنگ اویو 34 سال کی عمر میں چل بسے

News Image
یوگنڈا کی ٹورو سلطنت کے بادشاہ کنگ اویو صرف تین سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے تھے اور دنیا کے کم عمر ترین روایتی حکمران مانے جاتے تھے۔ ان کے اچانک انتقال پر شاہی خاندان اور ملک بھر میں سوگ کی فضا قائم ہے۔
یوگنڈا کی تاریخی ٹورو سلطنت کے روایتی بادشاہ کنگ اویو 34 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ ان کے انتقال کی خبر نے دنیا بھر میں روایتی اور شاہی حلقوں کو سوگوار کر دیا ہے، جبکہ یوگنڈا کے عوام اپنے ہر دلعزیز حکمران کی اچانک موت پر شدید صدمے میں ہیں۔ شاہی خاندان اور حکومت کی جانب سے ان کی وفات کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ کنگ اویو نے تاریخ میں اس وقت اپنا نام درج کروایا تھا جب وہ محض تین سال کی عمر میں اپنی سلطنت کے تخت پر بیٹھے تھے۔ اتنی کم عمری میں اتنی بڑی ذمہ داری سنبھالنے کی وجہ سے انہیں دنیا کا کم عمر ترین برسرِ اقتدار روایتی مونکار یعنی بادشاہ مانا جاتا تھا۔ ان کے بچپن میں شاہی امور کے لیے ایک ریجنسی کونسل تشکیل دی گئی تھی، تاہم جیسے جیسے وہ بڑے ہوئے، انہوں نے اپنی سلطنت کے ثقافتی اور روایتی معاملات میں بھرپور کردار ادا کرنا شروع کیا۔ اپنے طویل دورِ حکومت کے دوران، کنگ اویو نے ٹورو سلطنت کی روایات کی پاسداری کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا۔ انہوں نے نوجوانوں کی تعلیم، صحت کی سہولیات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے متعدد فلاحی اقدامات کیے، جس کی وجہ سے وہ عوام بالخصوص نوجوان طبقے میں انتہائی مقبول تھے۔ ان کی ناگہانی موت سے ٹورو سلطنت میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جس کا پر ہونا انتہائی مشکل معلوم ہوتا ہے۔ شاہی دربار کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کی آخری رسومات کے حوالے سے حتمی انتظامات کا اعلان جلد کیا جائے گا، جس میں ملک بھر سے سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ روایتی عمائدین کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ کنگ اویو کے انتقال پر بین الاقوامی سطح پر بھی تعزیت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور مختلف رہنماؤں نے ان کے اہل خانہ اور یوگنڈا کے عوام سے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔