Technology
اے آئی وائس کلوننگ: برطانوی اداکاروں کا آواز کے تحفظ کے لیے قانون کا مطالبہ
برطانیہ کے معروف اداکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے آواز چوری ہونے سے بچانے کے لیے سخت قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ یہ اقدام نامور فنکاروں کی آواز کے غیر قانونی استعمال اور وائس کلوننگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
برطانیہ کے سرکردہ اداکاروں، جن میں نکولہ کافلن اور ہیو بونویل بھی شامل ہیں، نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے اس دور میں ہر شہری کو اس کی اپنی آواز کی قانونی ملکیت کا حق دیا جائے۔ فنکاروں کا یہ گروپ اب ایک ایسے قانون کا پرزور مطالبہ کر رہا ہے جو ڈیجیٹل دور میں کسی بھی شخص کی آواز کے غیر قانونی استعمال اور ہو بہو نقل تیار کرنے کی روش کو روک سکے۔ ان فنکاروں کا مؤقف ہے کہ موجودہ قوانین اتنے مؤثر نہیں ہیں کہ وہ اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہونے والی جعل سازی کا مقابلہ کر سکیں۔
حالیہ برسوں میں جنریٹیو اے آئی ٹیکنالوجی نے جہاں بے شمار فوائد دیے ہیں، وہیں اس نے فنکاروں اور عام شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ وائس کلوننگ کے ذریعے کسی بھی شخص کی آواز کو چند سیکنڈ کے آڈیو کلپ کی مدد سے ہو بہو تیار کیا جا سکتا ہے، جس سے فراڈ، غلط معلومات کی ترسیل اور فنکاروں کی شناخت چوری ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ متاثرہ اداکاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت فوری طور پر قانون سازی کرے تاکہ ہر فرد کو اپنی آواز کے جملہ حقوق حاصل ہوں اور کوئی بھی کمپنی یا پلیٹ فارم اجازت کے بغیر اسے استعمال نہ کر سکے۔
اس مہم سے وابستہ اداکاروں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف اپنی پیشہ ورانہ شناخت کا تحفظ نہیں ہے بلکہ عام لوگوں کو بھی اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ نقصانات سے بچانا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں وائس کلوننگ کے ذریعے لوگوں کی آوازیں چرا کر ان کے پیاروں کو دھوکہ دینے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ قانونی ماہرین اور انڈسٹری کے دیگر افراد نے بھی اس مطالبے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے جلد ہی جامع لائحہ عمل مرتب کرے گی۔