Pakistan
سندھ طاس معاہدہ: پاکستان اپنے جائز حقوق کا تحفظ کرے گا، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے گہرے نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے گا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کے تحت اپنے تمام جائز اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم بین الاقوامی معاہدے کو کسی بھی صورت میں بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کے خطے میں گہرے اور خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر اس بات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ پانی کے مسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا ریاستیں بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری سے کیسے گریز کر سکتی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان نے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک اہم اور تاریخی ضامن ہے جس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ ردوبدل یا مداخلت کے سنگین مضمرات ہیں۔ پاکستانی قیادت کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے معاہدے عالمی قوانین کے تحت تشکیل پاتے ہیں اور ان کا یکطرفہ معطل یا منسوخ کیا جانا بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے زور دے کر کہا کہ پاکستان اپنے عوام اور معیشت کی آبی ضروریات سے بخوبی آگاہ ہے اور ملک کے آبی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عالمی برادری اور متعلقہ اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بین الاقوامی معاہدوں کی روح کے مطابق پاسداری کی جائے۔ پاکستان کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطے میں پانی کے منصفانہ اور قانونی انتظام کے لیے پرعزم ہے اور اپنے حقوق کے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔