LIVE
Loading Breaking News...

پمز ہسپتال آتشزدگی کا واقعہ: حکومت کا ملک بھر میں فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم

News Image
وفاقی حکومت نے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے دلخراش واقعے کے بعد ملک بھر کے تمام ہسپتالوں میں فوری طور پر فائر سیفٹی آڈٹ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس المناک حادثے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت احتساب اور فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعے کے بعد وفاقی حکومت نے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کا جامع آڈٹ کرانے کا سخت حکم جاری کر دیا ہے۔ اس المناک حادثے میں ایک نومولود بچہ جو مبینہ طور پر دو ماہ سے ہسپتال میں اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا، آتشزدگی کے اس خوفناک واقعے میں جان کی بازی ہار گیا، جس پر پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعے نے طبی اداروں کی سیکورٹی اور حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں جس پر تمام مکاتب فکر کی طرف سے گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حالیہ سانحے کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اس معاملے پر شدید ہنگامہ آرائی اور بحث دیکھنے میں آئی۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ ہسپتال جیسے حساس مقامات پر حفاظتی انتظامات کے حوالے سے اتنی بڑی غفلت کیسے برتی گئی۔ پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس لرزہ خیز واقعے کے ذمہ داران کا کات احتساب کیا جائے اور تمام طبی مراکز میں ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اصلاحات نافذ کی جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس حادثے کے بعد گرما گرم بحث جاری ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے پمز واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کے استعفیٰ کا مطالبہ سختی سے مسترد کر دیا گیا ہے، جس سے سیاسی میدان میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ تاہم سیاسی بیانات سے بالاتر ہو کر عوامی حلقوں، سول سوسائٹی اور طبی ماہرین کا یہی اصرار ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور ہسپتالوں کے فائر سیفٹی پروٹوکولز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جائے۔ حکومت کے اس نئے حکم کے بعد امید کی جارہی ہے کہ متعلقہ ادارے اب حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کرائیں گے۔