World
امریکی وزارت خزانہ کی مصری بینک کی یو اے ای شاخ پر پابندیاں
امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے ساتھ مبینہ مالیاتی تعلقات کی پاداش میں ایک مصری بینک کی متحدہ عرب امارات میں واقع شاخ کے خلاف پابندیوں کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا اور بین الاقوامی مالیاتی نیٹ ورک کو سخت کرنا ہے۔
امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے ساتھ مبینہ مالیاتی اور تجارتی تعلقات کی پاداش میں ایک اہم مصری بینک کی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں قائم شاخ کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد تہران کے مبینہ غیر قانونی نیٹ ورکس اور مالیاتی ذرائع کو محدود کرنا ہے تاکہ عالمی سطح پر دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔ اس کارروائی سے خطے میں بینکنگ اور مالیاتی شعبے میں ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ امریکی احکامات کی زد میں اب دیگر بین الاقوامی ادارے بھی آ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے اس نوعیت کی نئی امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ان پر عمل درآمد سے گریز کریں۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس طرح کے یکطرفہ اقدامات سے خطے کے امن اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ ثالث ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تناؤ میں کمی لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس دوران چین نے بھی امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والےممالک پر پابندیوں کی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ بیجنگ کا موقف ہے کہ بین الاقوامی تجارت اور خودمختار ممالک کے مابین تعلقات میں مداخلت عالمی قوانین کے منافی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی حکومت کی ایران کے خلاف یہ تازہ کارروائیاں اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت تہران کے مالیاتی گھیراؤ کو مزید تنگ کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی بینکنگ سیکٹر پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ مصری اور اماراتی حکام کی جانب سے اس معاملے پر مزید ردعمل کا انتظار ہے۔