Business
چین اور ایس سی او تجارت میں 2026 کے دوران 14.9 فیصد اضافہ
سال 2026 کے ابتدائی سات ماہ کے دوران چین اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے مابین تجارتی تعلقات میں نمایاں وسعت دیکھی گئی ہے۔ اس دوران باہمی تجارت میں 14.9 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو علاقائی معاشی انٹیگریشن کی عکاسی کرتا ہے۔
بیجنگ: سال 2026 کے پہلے سات مہینوں کے دوران چین اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں شاندار 14.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری چینی اعداد و شمار کے مطابق، یہ تیزی سے بڑھتی ہوئی تجارت اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں معاشی اور تجارتی روابط دن بہ دن گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور رکن ممالک باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پیشرفت سے پورے یوریشیا میں پائیدار ترقی اور معاشی استحکام کو نئی راہیں مل رہی ہیں۔
اس خطے کی بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں میں ازبکستان جیسے ممالک نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ازبکستان میں ایس سی او سے متعلقہ فریٹ ٹریفک میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جو بڑھ کر 33.5 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنظیم کے پلیٹ فارم سے نہ صرف روایتی تجارت بلکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں بھی زبردست بہتری آ رہی ہے، جس سے تمام رکن ممالک یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اقتصادی مستقبل کے حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد اب محض سیکیورٹی اور سفارت کاری تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے کو ایک مضبوط تجارتی بلاک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یوریشیا کے ممالک اس فورم کو باہمی تجارت کو فروغ دینے اور مشترکہ خوشحالی کے حصول کے لیے ایک بہترین ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں اس تجارتی رفتار کے مزید تیز ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔