World
نیپال چین سیلاب، سونامی جیسا تباہ کن منظر، ہزاروں لاپتہ
نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب نے ہر شے تباہ کر دی ہے جسے بچ جانے والوں نے سونامی سے تشبیہ دی ہے۔ ریسکیو ادارے مسلسل امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ نئے سیلابی ریلوں کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں حالیہ تباہ کن اچانک سیلاب اور ملبے کے تودے گرنے کے واقعے نے شدید تباہی مچائی ہے، جسے وہاں کے مکینوں نے ایک خوفناک سونامی سے تشبیہ دی ہے۔ اس ہولناک آفت کے بعد امدادی کارروائیاں جنگی بنیادوں پر جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں نئے سیلابی ریلوں کے خطرے کے پیش نظر امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حالات کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے ریسکیو اور سیکیورٹی ادارے انتہائی مستعدی سے کام کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچائی جا سکیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور مقامی حکام کے مطابق اس خوفناک آفت کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ اب دو ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس صورتحال نے لواحقین اور مقامی آبادی کو شدید ذہنی صدمے اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کئی مقامات پر مکانات، پل اور سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے امدادی سامان کی ترسیل میں بھی شدید رکاوٹیں حائل ہو رہی ہیں۔
چینی حکام نے بالائی جھیلوں کے حالات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد بالآخر ریسکیو کے کاموں کو دوبارہ باقاعدہ طور پر شروع کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب نیپال میں بھی زمینی اور فضائی ذرائع کی مدد سے تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری رکھی جا رہی ہیں۔ ماہرین ارضیات اور مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گلیشئرز کے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس طرح کے اچانک سیلابوں کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کے لیے طویل المدتی اور مربوط حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔