Business
وال اسٹریٹ میں مندی کا رجحان، فیڈ چیئرمین کا بیان
وال اسٹریٹ کے اشاریئے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کی جانب سے مہنگائی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے بیان کے بعد کمزوری کے ساتھ بند ہوئے۔ اس بیان کے نتیجے میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں جس سے سرمایہ کاروں میں احتیاطی رویہ دیکھا گیا۔
نیویارک (نیکزورا نیوز اردو) وال اسٹریٹ کے حصص بازار میں کاروباری ہفتے کے اختتام پر مندی کا رجحان دیکھا گیا، جس کی اہم وجہ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کی جانب سے مہنگائی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا غیر متزلزل عزم ظاہر کرنا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق، ان بیانات نے سرمایہ کاروں میں یہ تشویش پیدا کر دی ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کو طویل عرصے تک بلند رکھا جا سکتا ہے یا اس میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث مختلف اہم کاروباری شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا اور اہم اعشاریے نفع کے مقابلے میں کمی کے ساتھ بند ہوئے۔
فیڈرل ریزرو کے حکام کی جانب سے افراط زر کو ہدف تک لانے کے لیے سخت مالیاتی پالیسیوں پر عمل پیرا رہنے کے اشاروں نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اب بھی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، اور مرکزی بینک کسی بھی قسم کی نرمی برتنے سے گریزاں ہے۔ اس پالیسی کے نفاذ کے نتیجے میں سرمایہ کاری کے روایتی رجحانات میں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور سرمایہ کار خط مول لینے سے گریز کرتے ہوئے محتاط حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔
اس معاشی منظر نامے کے اثرات صرف حصص بازار تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ دیگر مالیاتی منڈیوں میں بھی نمایاں ہلچل دیکھی گئی۔ سونے کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، کیونکہ شرح سود میں اضافے کی بڑھتی ہوئی توقعات نے غیر منافع بخش اثاثوں کی کشش کو کم کر دیا۔ سرمایہ کار اب آئندہ آنے والے معاشی اعداد و شمار اور مرکزی بینک کے آئندہ کے فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے سمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔