Business
سکاٹ بیسنٹ کا الزبتھ وارن پر حملہ، غیر ملکی کرنسی مارکیٹ پر طنز
سکاٹ بیسنٹ نے سینیٹر الزبتھ وارن کے اس خط پر شدید تنقید کی ہے جو انہوں نے کرنسی مارکیٹ اور ین کی مداخلت کے حوالے سے لکھا تھا۔ انہوں نے الزبتھ وارن کو فارن ایکسچینج مارکیٹ کے بنیادی اصولوں سے ناواقف قرار دیتے ہوئے طنز کا نشانہ بنایا۔
امریکی مالیاتی حلقوں میں اس وقت ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا جب ایک اہم پالیسی ساز اور نامور شخصیت سکاٹ بیسنٹ نے سینیٹر الزبتھ وارن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب سینیٹر الزبتھ وارن نے کرنسی مارکیٹ، خاص طور پر جاپانی ین کی حمایت اور اس میں مداخلت کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے اور ایک خط ارسال کیا۔ اس خط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ سینیٹر وارن کو غیر ملکی کرنسی یعنی فارن ایکسچینج کے بنیادی میکانزم اور اصولوں کی کوئی خاص سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی پیشکش کی کہ وہ سینیٹر وارن کو 'فارن ایکسچینج فار ڈمیز' نامی سبق یا ٹیوٹوریل فراہم کر سکتے ہیں تاکہ وہ اس پیچیدہ مالیاتی نظام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان دونوں شخصیات کے درمیان جاری سیاسی اور معاشی چپقلش کو مزید ہوا دینے کا باعث بنے گا، کیونکہ امریکی معیشت اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں کرنسی کی مداخلت کا موضوع ہمیشہ سے انتہائی حساس رہا ہے۔ مزید برآں، مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سیاسی بیانات عالمی سطح پر کرنسی کے تبادلے کے رجحانات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ سینیٹر الزبتھ وارن کی طرف سے اس بیان پر فی الحال کوئی باضابطہ جوابی تردید سامنے نہیں آئی ہے۔