LIVE
Loading Breaking News...

لندن آتش زنی حملہ: چار ملزمان کا یہودی ایمبولینسز جلانے کا اعتراف

News Image
برطانیہ کے علاقے گولڈرز گرین میں یہودی فلاحی تنظیم کی چار ایمبولینسوں کو نذر آتش کرنے کے واقعے میں چاروں ملزمان نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس خطرناک حملے کے نتیجے میں دھماکے بھی ہوئے تھے جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے شمال مغربی علاقے گولڈرز گرین میں پیش آنے والے ایک سنگین واقعے میں، ایک یہودی فلاحی تنظیم کی گاڑیوں پر آتش زنی کے حملے میں ملوث چاروں ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ واقعہ رواں سال مارچ کے مہینے میں پیش آیا تھا جب نامعلوم افراد نے تنظیم کے زیرِ استعمال چار گاڑیوں کو جان بوجھ کر آگ لگا دی تھی۔ اس آتش زنی کے نتیجے میں کئی دھماکے بھی ہوئے تھے جس سے مقامی رہائشیوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی تھی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے بعد برطانوی حکام نے اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا تھا جن پر گاڑیوں کو نقصان پہنچانے، عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے اور نفرت انگیز جرائم کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ عدالت میں سماعت کے دوران چاروں ملزمان نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس واقعے نے مقامی یہودی کمیونٹی اور وسیع تر برطانوی معاشرے میں شدید تشویش پیدا کی تھی، جبکہ فلاحی تنظیم کی گاڑیوں کے تباہ ہونے سے مریضوں اور ضرورت مندوں کو ایمرجنسی سروسز کی فراہمی میں بھی عارضی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مقامی پولیس اور سکیورٹی اداروں نے اس کیس کی تفتیش کو انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھایا اور شواہد اکٹھے کیے تاکہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ برطانوی قانون کے مطابق نفرت انگیز جرائم اور املاک کو نقصان پہنچانے والے ایسے واقعات کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ عدالت کی جانب سے ملزمان کو سزاؤں کا اعلان آئندہ آنے والی سماعتوں میں متوقع ہے، جبکہ متاثرہ کمیونٹی کے رہنماؤں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی اور انصاف کے حصول کی جانب اس پیش رفت کو سراہا ہے۔