World
نیپال سیلاب تباہی: سیٹلائٹ تصاویر نے ہوش اڑا دیے
نئی سامنے آنے والی سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ تباہ کن سیلابی ریلوں نے نیپال کے کئی دیہات، پُلوں اور اہم سرحد کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس قدرتی آفت نے خطے کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کی گواہی اب خلا سے لی گئی تصاویر دے رہی ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والی سیٹلائٹ تصاویر نے نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے حقیقی پیمانے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ تصاویر جو کہ سیلاب سے پہلے اور بعد کی کیپچر کی گئی ہیں، واضح طور پر دکھاتی ہیں کہ پانی کے شدید ریلوں نے کس طرح ہنستے بستے دیہات کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔ ان دل دہلا دینے والے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی رہائشی علاقے مکمل طور پر زیر آب آ چکے ہیں جبکہ روایتی راستے اور آبادیاں غائب ہو چکی ہیں۔
اس قدرتی آفت نے نہ صرف اندرونی مواصلاتی نظام کو تہس نہس کیا ہے بلکہ نیپال اور تبت کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم سرحدی گزرگاہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سیلاب کے زوردار ریلوں نے دوطرفہ تجارت اور آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والے اہم پلوں اور سڑکوں کو بہا دیا ہے، جس کی وجہ سے سرحدی علاقوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ امدادی اداروں کے لیے اس تباہ شدہ خطے تک رسائی حاصل کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے کیونکہ سڑکوں کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔
مقامی حکام اور بین الاقوامی فلاحی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل ہونے والے ڈیٹا پر انحصار کر رہی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس سیلاب نے ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا ہے اور لاکھوں لوگ عارضی کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ زرعی اراضی اور فصلیں بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جس سے مستقبل میں خوراک کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
حکومتِ نیپال نے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم نقصان کا پیمانہ اتنا وسیع ہے کہ مقامی وسائل ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی موسمیاتی تبدیلیاں اور اچانک آنے والے سیلاب خطے کے لیے مستقبل میں ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں، جس کے لیے دیرپا اور موثر حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔