World
روس اور نیٹو کشیدگی، ماسکو کی ہائبرڈ حکمت عملی جاری رہنے کا انکشاف
مغربی حکام کا کہنا ہے کہ روس نیٹو کے ساتھ براہ راست جنگ سے بچنا چاہتا ہے تاہم وہ مغربی ممالک کے خلاف اپنی ہائبرڈ سرگرمیاں جاری رکھے گا۔ ماسکو کی جانب سے سخت بیانات کے باوجود زمینی حقائق یہی ظاہر کرتے ہیں کہ فی الحال براہ راست تصادم کا امکان کم ہے۔
مغربی دفاعی اور انٹیلی جنس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اگرچہ مغربی ممالک اور نیٹو کے خلاف سخت گیر بیانات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، تاہم عملی طور پر ماسکو اس وقت نیٹو کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم یا جنگ سے مکمل طور پر گریز کرنا چاہتا ہے۔ حکام کے مطابق روس کے موجودہ عزائم میں بڑی جنگ چھیڑنا شامل نہیں ہے کیونکہ وہ اس کے تباہ کن نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔
تاہم، مغربی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جنگ سے گریز کے باوجود ماسکو نیٹو کے رکن ممالک کے خلاف اپنی نام نہاد ہائبرڈ سرگرمیوں کا سلسلہ بدستور جاری رکھے گا۔ ان ہائبرڈ سرگرمیوں میں سائبر حملے، غلط معلومات کی مہمات، تخریب کاری اور دیگر خفیہ اقدامات شامل ہو سکتے ہیں جو براہ راست روایتی جنگ کی تعریف میں نہیں آتے لیکن مخالف فریق کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور نیٹو کے درمیان یہ سرد جنگ اور کشیدگی آنے والے دنوں میں بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ماسکو کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ نیٹو اتحاد کو اندرونی طور پر دباؤ میں رکھا جائے اور یوکرین تنازع کے تناظر میں مغربی ممالک کی یکجہتی کو کمزور کیا جائے، بغیر اس کے کہ کوئی بڑی عسکری چنگاری بھڑکے۔
مغربی دارالحکومتوں میں اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور نیٹو اتحادی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ہائبرڈ حملوں سے نمٹنے کے لیے بھی نئی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ سیکورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ آنے والے مہینوں میں سائبر سیکورٹی اور انٹیلی جنس کا شعبہ روس اور نیٹو کے درمیان رسہ کشی کا سب سے بڑا میدان جنگ رہے گا۔