World
امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ اور کساد بازاری کے خطرات
امریکہ اور کینیڈا کے مابین جاری تجارتی تنازعے اور نئے ٹیکسوں کی وجہ سے کینیڈا میں معاشی کساد بازاری کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی معاہدے کے خاتمے سے ملک میں ایک لاکھ ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حالیہ تجارتی کشیدگی اور محصولات کے نفاذ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں معاشی کساد بازاری کے گہرے سائے منڈلانے لگے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو کینیڈا کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، موجودہ محصولات اور پابندیوں کے اثرات کے تحت کینیڈا میں کم از کم ایک لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف برآمدات پر اثر انداز ہوگی بلکہ عام شہریوں کی قوت خرید اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی شدید متاثر کرے گی، جس سے بے روزگاری کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر باضابطہ تجارتی معاہدہ یعنی یو ایس ایم سی اے (USMCA) اپنے انجام کو پہنچتا ہے یا منسوخ ہوتا ہے، تو کینیڈا براہ راست معاشی کساد بازاری کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی خلیج نے کاروباری حلقوں اور عالمی مالیاتی اداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اس تنازعے کے اثرات شمالی امریکہ کی مجموعی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔
حکومتوں کی سطح پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے تاحال کوئی مؤثر لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا ہے، جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں مہنگائی اور معاشی دباؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی منڈی کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کو اپنے اقتصادی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے تاکہ خطے کو ایک بڑے معاشی بحران سے بچایا جا سکے اور لاکھوں ملازمتوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔