World
موہن بھاگوت کا دورہ امریکہ اور آر ایس ایس کے خلاف نیویارک میں مظاہرے
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے دورہ نیویارک کے موقع پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم ہندوتجا اور قوم پرستی کی ترویج کرتی ہے جو اقلیتوں کے لیے خطرہ ہے۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ دورہ نیویارک کو شدید عوامی اور تنظیمی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ موہن بھاگوت کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ میں مقیم مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے نمائندے ان کی آمد کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ آر ایس ایس کی نظریاتی بنیادیں ہندو قوم پرستی پر مبنی ہیں، جس سے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور مسیحیوں کے حقوق کو خطرات لاحق ہیں۔ نیویارک میں ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے رہنماؤں کے بیانیے کا نوٹس لیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دورے جمہوری اقدار اور مذہبی ہم آہنگی کے منافی ہیں۔ دوسری جانب آر ایس ایس کے حامیوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موہن بھاگوت کا یہ دورہ ثقافتی اور فکری بیداری کے فروغ کے لیے ہے، اور اس کا مقصد ہندوستانی ثقافت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس احتجاج نے ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر بھارت کی اندرونی سیاست اور مذہبی کشیدگی کے موضوعات کو اجاگر کر دیا ہے، جہاں سیکولرازم اور قوم پرستی کی بحث شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس قسم کے مزید احتجاج متوقع ہیں کیونکہ نیویارک اور دیگر امریکی شہروں میں تارکین وطن کی بڑی تعداد ان ایشوز پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔