LIVE
Loading Breaking News...

گرین لینڈ جبری مانع حمل تنازع اور حقوق نسواں کی خلاف ورزی

News Image
ماہرین کی نئی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گرین لینڈ میں ماضی میں نافذ کیے جانے والے جبری مانع حمل اقدامات خواتین کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھے۔ اس معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک سچ کمیشن قائم کیا جائے گا۔
گرین لینڈ میں ماضی کے دوران نافذ کیے جانے والے جبری مانع حمل کے متنازع اقدامات کے حوالے سے ماہرین نے اپنی تحقیقاتی رپورٹس جاری کر دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مقامی خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں، جس سے متاثرہ خواتین کو شدید جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں نے انسانیت اور بنیادی حقوق کے اصولوں کو پامال کیا۔ یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اس بات پر بحث جاری تھی کہ آیا یہ پورا منصوبہ باضابطہ طور پر نسل کشی کے تحت آتا ہے یا نہیں۔ اگرچہ ماہرین کی ابتدائی رپورٹس اس بات پر مکمل اتفاق کرنے میں ناکام رہی ہیں کہ اس اسکیم کو باقاعدہ نسل کشی قرار دیا جائے یا نہیں، تاہم اس اقدام کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ضرور قرار دیا گیا ہے۔ اس سنگین معاملے کی مکمل حقیقت جاننے اور ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے اب ایک باضابطہ سچ کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ کمیشن تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے گا اور متاثرہ خواتین کے بیانات قلمبند کرے گا تاکہ تاریخی ناانصافیوں کا اعتراف کیا جا سکے اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے جا سکیں۔ اس کمیشن کے قیام سے گرین لینڈ کے معاشرے میں اس تلخ باب کو سمجھنے اور مستقبل میں اس قسم کے اقدامات کی روک تھام کے لیے اہم راہیں کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔