Pakistan
پاکستان سعودی عرب تعلقات، دفاعی اور اقتصادی تعاون میں اضافہ
تجزیہ کاروں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور اقتصادی تعاون کو سراہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے نے خطے میں امن اور اتحاد کا مضبوط پیغام دیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کو خارجہ امور اور دفاعی تجزیہ کاروں کی طرف سے زبردست پذیرائی ملی ہے۔ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں جس سے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سیاسی، معاشی اور عسکری سطح پر ہونے والے رابطوں نے دونوں ممالک کے باہمی رشتوں کو مزید مستحکم کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے حالیہ بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے نے پوری خطے میں امن اور اتحاد کا ایک واضح اور طاقتور پیغام دیا ہے۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے عزم کو تقویت ملی ہے کہ وہ خطے کے دفاع اور سلامتی کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان روایتی برادرانہ تعلقات کو طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ معاشی محاذ پر بھی پیش رفت جاری ہے جہاں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی گہری دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب پاکستان کے ہوائی اڈوں کی نجکاری اور دیگر اہم تجارتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ سعودی وزیر نے حال ہی میں اعلیٰ عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل سید عasim منیر سے بھی اہم ملاقاتیں کی ہیں جن میں باہمی دفاعی تعاون، سیکیورٹی امور اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان تمام اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا باہمی تعاون اب محض سفارتی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک پائیدار اقتصادی اور دفاعی اتحاد کی شکل اختیار کر چکا ہے جو آنے والے دنوں میں خطے کے مجموعی امن اور ترقی کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔