LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا سی آئی اے چیف کا خفیہ دورہ ماسکو اور اس کے پس منظر کی تفصیلات

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں سی آئی اے کے سربراہ نے ماسکو کا ایک انتہائی خفیہ دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد روس کو نیٹو ممالک پر حملہ نہ کرنے کی سخت تنبیہ کرنا تھا۔
برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور میں سی آئی اے کے سربراہ کو ایک انتہائی خفیہ دورے پر ماسکو روانہ کیا تھا، جس کے بارے میں واشنگٹن کے کئی اعلیٰ ترین حکام کو بھی کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔ اس حیرت انگیز اور غیر معمولی سفارتی و انٹیلی جنس اقدام کا بنیادی مقصد کریملن کو اس بات سے واضح طور پر خبردار کرنا تھا کہ وہ نیٹو اتحاد کے کسی بھی رکن ملک پر حملے سے گریز کرے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ دورہ اس وقت کیشیا کیپیٹل اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ کریملن اور امریکی ذرائع کے مطابق سی آئی اے کے اس وقت کے ڈائریکٹر نے ماسکو میں اپنے روسی انٹیلی جنس ہم منصبوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ خطے میں کسی بھی بڑی فوجی محاذ آرائی کو روکا جا سکے۔ اس خفیہ مشن کو اس رازداری کے ساتھ انجام دیا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے متعدد کلیدی عہدیدار بھی اس سے مکمل طور پر ناواقف تھے۔ انٹیلی جنس رپورٹس میں یہ بھی ذکر کیا گیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران میں جاری جنگ کے بعد امریکہ کو کمزور تصور کر رہے تھے، جس نے واشنگٹن میں پالیسی سازوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا تھا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی اس پیشرفت کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام نے کیف کو ماسکو میں ہونے والی ان خفیہ ملاقاتوں کے حوالے سے معلومات فراہم کی تھیں۔ اس خفیہ سفارت کاری سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ واشنگٹن ماسکو کے ساتھ براہ راست رابطے کے ذریعے خطے کے امن کو یقینی بنانے اور ممکنہ خطرناک غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے کس حد تک جانے کو تیار تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ دورہ بین الاقوامی سفارت کاری کی تاریخ کے انتہائی اہم پوشیدہ ابواب میں سے ایک ہے جو اب منظر عام پر آیا ہے۔