Pakistan
وفاقی اور سندھ حکومت کا ڈیجیٹل گورننس اور ٹیکنالوجی میں تعاون کا فیصلہ
وفاقی حکومت اور سندھ حکومت نے ملک بھر میں ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دینے اور باہمی تعاون کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان اہم مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
اسلام آباد اور کراچی کے درمیان تکنیکی اور انتظامی تعلقات میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے وفاقی اور سندھ حکومتوں نے ڈیجیٹل گورننس کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس اہم فیصلے کا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو جدید بنانا، سرکاری امور میں شفافیت لانا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو قومی اہداف سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں دونوں جانب سے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے تاکہ صوبائی اور وفاقی سطح پر ڈیجیٹل پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
اس تعاون کے تسلسل میں گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کی موجودگی میں ایک باوقار تقریب کے دوران مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدہ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے مابین طے پایا ہے۔ اس شراکت داری کا بنیادی مقصد ملکی سطح پر سیمی کنڈکٹر کی صلاحیتوں، تحقیق اور تکنیکی مہارتوں کو فروغ دینا ہے تاکہ نوجوانوں کو مستقبل کے چقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔
علاوہ ازیں، سندھ حکومت کی جانب سے قومی مقاصد کے عین مطابق ایک جامع ڈیجیٹل ماسٹر پلان تیار کرنے پر بھی کام جاری ہے، جس سے صوبے کے پسماندہ علاقوں میں بھی ٹیکنالوجی کی رسائی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے حکومت پاکستان نے ایک کروڑ ڈالر کا خصوصی فنڈ بھی قائم کیا ہے جو نئے سٹارٹ اپس اور ابھرتے ہوئے کاروباری نظریات کی معاونت کرے گا۔ ان تمام اقدامات سے نہ صرف ملک میں ڈیجیٹل انقلاب کی راہ ہموار ہوگی بلکہ بیرونی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔