LIVE
Loading Breaking News...

پمز اسپتال آتشزدگی واقعہ اور حکومت کا معاوضہ، تفصیلی رپورٹ

News Image
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے پچاس لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی رہنماؤں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس حادثے کے نتیجے میں ایک نو مولود بچہ جو پہلے ہی دو ماہ سے اسپتال میں وارث نہ ملنے کی وجہ سے موجود تھا، جان کی بازی ہار گیا۔ اس دلخراش واقعے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور حکومتی سطح پر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی اس حوالے سے ایک قرارداد جمع کرائی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس ہولناک حادثے کے ذمہ داروں کا کڑا احتساب کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی غفلت کو روکا جا سکے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ اس سانحے کے تناظر میں حکام نے صحت کے بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کا از سر نو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ پمز اسپتال کا یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے طبی اداروں میں حفاظتی قوانین پر عملدرآمد کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ حکومت نے اس افسوسناک حادثے کے بعد متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے پانچ لاکھ روپے مالی معاوضے کا اعلان کیا ہے، تاہم عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ محض مالی امداد کافی نہیں بلکہ اس نظامی خرابی کو جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین صحت اور سول سوسائٹی کا مطالبہ ہے کہ ملک بھر کے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے جدید آلات کی تنصیب کو لازمی بنایا جائے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے عملے کی باقاعدہ تربیت کی جائے۔ اس سانحے نے ایک بار پھر پاکستان کے شعبہ صحت کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر جامع اصلاحات نافذ کی جائیں تاکہ آئندہ اس قسم کے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔