World
قطری وزیر اعظم کا دورہ تہران، سفارت کاری اور امریکی پابندیوں پر گفتگو
قطری وزیر اعظم نے تہران کا دورہ کرتے ہوئے اعلیٰ ایرانی حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اس دوران ایران نے امریکی پابندیوں کے خلاف عالمی سطح پر ردعمل ظاہر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سفارت کاری کے دروازے اب بھی بند نہیں ہوئے۔
قطری وزیر اعظم نے حال ہی میں تہران کا اہم دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایرانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ اس دورے کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور سفارتی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ حالیہ دنوں میں قطر، عمان اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کے دور تہران سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ خطے میں سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہو رہی ہیں تاکہ تنازعات کا پرامن حل نکالا جا سکے۔ تہران میں ہونے والی ان ملاقاتوں کے دوران خطے کے امن و امان اور دوطرفہ اقتصادی تعاون پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقاتوں کے دوران ایرانی حکام نے واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ یکطرفہ پابندیوں کے خلاف عالمی برادری کو مؤثر انداز میں آواز بلند کرنی چاہیے۔ ایرانی وزارت خارجہ اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اپنے رویے اور حکمت عملی میں تبدیلی لائے تو سفارت کاری اور مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا ناممکن نہیں۔ ایران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کے مسائل کا حل جنگ یا محاذ آرائی میں نہیں بلکہ باہمی بات چیت اور سفارتی روابط کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، خلیجی ممالک اور بالخصوص قطر خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ امریکی پابندیوں اور خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی حرکیات کے پس منظر میں یہ دورے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑی جنگ یا بحران سے بچا جا سکے۔